اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نوری المالکی نے روسی دارالحکومت ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ ان کا ملک علاقے میں ترکی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے شام میں نیٹو کی طرف سے کسی بھی قسم کی مداخلت کے خلاف ہے کیونکہ ایسی کوئی مداخلت پورے علاقے کے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کرے گی۔ انھوں نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ ترکی کو کسی قسم کے کسی خطرے کا سامنا نہيں ہے اور علاقے میں کسی قسم کی جنگ نہيں ہونی چاہئے جس کے نتیجے میں نیٹو ترکی کی طرف سے اس جنگ میں مداخلت کرے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ شام کے طیاروں نے ترکی پر بمباری کی ہے یہ مبالغہ آرائی ہے اور اس کو جنگ پر منتج نہیں ہونا چاہئے۔ انھوں نے شام میں نیٹو کی مداخلت کے خطرناک نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسا اقدام پورے خطے کو ایک وسیع جنگ میں دھکیل دے گا۔ انھوں نے کہا: شام کے سلسلے میں ترکی کی پالیسیاں غلط اور انتہائی خطرناک ہیں؛ ترکی اپنی غلط پالیسیوں کی بنیاد پر بہت خطرناک اقدامات کا مرتکب ہورہا ہے اور اس کے اقدامات علاقے کو خطرے سے دوچار کررہے ہیں۔ ترکی کا رویہ شرمناک ہے؛ گویا وہ شام کے عوام کے بجائے شام کے مسائل حل کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ ترکی شام پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے چنانچہ بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ وہ ترکی کو روک دے۔ انھوں نے کہا: انقرہ نیٹو کو شام میں مداخلت پر اکسا رہا ہے جو ایک خطرناک عمل ہے کیونکہ اس کا مطلب شام میں بھی لیبیا کے منظرنامے کو دہرانے کے مترادف ہے۔ شام کا مسئلہ پرامن انداز میں حل ہونا چاہئے اور مستقبل میں جب امن بحال ہوگا اس ملک کے عوام ہی اپنی قسم کا فیصلہ کرنے کے حقدار ہونگے۔ عراقی وزیر اعظم نے اس امریکی دعوے کو مسترد کیا کہ ایران عراق کے راستے شام کو ہتھیار فراہم کررہا ہے اور کہا کہ اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ہم اپنی سرزمین کو ہتھیاروں اور دہشت گردوں کی ترسیل کے لئے استعمال نہيں ہونے دیں گے۔ انھوں نے روسی خبررسان ایجنسی انٹرفیکس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی الزام ایک سیاسی کھیل سے زیادہ کچھ نہيں ہے کیونکہ شام کو عراقی سرزمین سے منتقل ہونے والے ہتھیاروں کی کوئی ضرورت نہیں۔ انھوں نے کہا: نیٹو کو ترکی کی حمایت کے بہانے شام میں مداخلت سے بازرہنا چاہئے کیونکہ ترکی کو کوئی خطرہ لاحق نہيں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
/110